
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اصفہان کے جنوبی علاقے میں ایک امریکی C-130 سپورٹ طیارے کو مار گرایا ہے، تاہم اس دعوے پر امریکا کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق یہ طیارہ مبینہ طور پر پولیس کے خصوصی یونٹ کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں تباہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک حساس آپریشن کے دوران کی گئی، جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب بعض غیر مصدقہ امریکی سوشل میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مذکورہ طیارہ دراصل امریکی فورسز نے خود تباہ کیا تاکہ وہ ایران کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر اس وقت کی گئی جب امریکی فوج ایک گرائے گئے ایف-15 طیارے کے دوسرے اہلکار کو ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں اس طرح کے متضاد دعوے عام ہوتے ہیں، جہاں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اصل حقائق اکثر بعد میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں دونوں بیانات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران کی جانب سے بھی جوابی طور پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں، جن کا دائرہ کار اسرائیل کے ساتھ ساتھ دیگر خطوں تک بھی پھیل چکا ہے۔
مزید برآں، خلیج میں اہم بحری راستوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں سخت کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ واقعہ نہ صرف جاری تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ معلوماتی جنگ بھی اس تنازع کا اہم حصہ بن چکی ہے، جہاں دعوؤں اور بیانات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔



