
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق ایک اہم پہلو سامنے آیا ہے جس کے مطابق ملک نے زیرِ زمین “میزائل سٹیز” قائم کر رکھی ہیں، جو نہ صرف جدید حملوں سے محفوظ ہیں بلکہ جنگ کے دوران بھی اپنی فعالیت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی خفیہ تنصیبات ایران کی دفاعی طاقت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
حالیہ امریکی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں ڈرونز، متعدد کروز میزائل اور تقریباً نصف میزائل لانچرز موجود ہیں، حالانکہ جنگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی زیرِ زمین بنکرز اور میزائل بیسز ہیں، جو زمین کے سینکڑوں میٹر نیچے بنائے گئے ہیں۔
ان میں سے ایک اہم مثال یزد کے قریب واقع ایک زیرِ زمین بیس ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 500 میٹر گہرائی میں قائم ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک بنکر نہیں بلکہ ایک مکمل زیرِ زمین قلعہ ہے، جسے انتہائی سخت گرینائٹ چٹان میں تراشا گیا ہے۔ یہی چٹان اسے جدید ترین “بنکر بسٹر” بموں سے بھی محفوظ بناتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان میزائل سٹیز کے اندر پیچیدہ سرنگوں کا جال بچھا ہوا ہے، جہاں خودکار نظام کے تحت میزائل، اسلحہ اور دیگر سازوسامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان سرنگوں میں ٹرین جیسے نظام بھی موجود ہیں جو مختلف حصوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

ایرانی ویڈیوز میں بھی دکھایا گیا ہے کہ میزائل لانچرز کو تیزی سے زیرِ زمین سرنگوں سے باہر لایا جاتا ہے، فائر کیا جاتا ہے اور پھر فوری طور پر دوبارہ زمین کے اندر لے جایا جاتا ہے، جس سے ان کا سراغ لگانا اور نشانہ بنانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان تنصیبات کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر کسی ایک داخلی راستے کو نقصان پہنچے تو دیگر راستوں سے آپریشن جاری رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ کئی راستے جعلی یا قدرتی ماحول میں چھپائے گئے ہوتے ہیں، جس سے دشمن کے لیے درست نشانہ لگانا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
برطانوی تحقیقاتی اداروں کے مطابق ایسے زیرِ زمین ڈھانچوں کو تباہ کرنے کے لیے نہ صرف درست انٹیلی جنس معلومات درکار ہوتی ہیں بلکہ ایک ہی مقام پر بار بار اور انتہائی درست حملے بھی ضروری ہوتے ہیں، کیونکہ سخت چٹان دھماکوں کی توانائی کو جذب کر لیتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے برسوں کی محنت سے یہ انفراسٹرکچر تیار کیا ہے، جس کا مقصد اپنے میزائل ذخیرے کو محفوظ رکھنا اور جنگ کے دوران بھی حملے جاری رکھنا ہے۔ ان کے مطابق میزائل تو دوبارہ بنائے جا سکتے ہیں، لیکن اس نوعیت کے زیرِ زمین ڈھانچے طویل المدتی دفاع فراہم کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ انفراسٹرکچر اور جغرافیہ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور یہی عوامل کسی بھی ملک کی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط یا کمزور بنا سکتے ہیں۔



