
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے اصفہان کے جنوبی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران دو امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور ایک C-130 فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ تباہ کر دیا ہے، جبکہ اس واقعے کی مبینہ ویڈیوز اور تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک مشترکہ فوجی آپریشن کے دوران کی گئی، جس میں امریکی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جاری کردہ تصاویر میں مبینہ طور پر تباہ شدہ ڈرونز اور فوجی سازوسامان دکھایا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور دونوں جانب سے دعوے اور جوابی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں اس طرح کی معلوماتی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، جہاں ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ فوجی اثاثے امریکی فورسز نے خود تباہ کیے تاکہ وہ مخالف کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں طاقت کے توازن اور فضائی کارروائیوں کی نوعیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں مستند معلومات کی کمی کے باعث کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موجودہ تنازع میں صرف فوجی محاذ ہی نہیں بلکہ معلوماتی اور میڈیا کا محاذ بھی انتہائی سرگرم ہے، جہاں ہر فریق اپنی کامیابی کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اصل صورتحال وقت کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔



