
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع بروج پیٹروکیمیکل پلانٹ کی سرگرمیاں متعدد آگ لگنے کے واقعات کے بعد عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، جس کے بعد صنعتی اور توانائی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ آگ اس وقت لگی جب حالیہ حملوں کے دوران فضا میں تباہ کیے گئے اہداف کے ملبے کے ٹکڑے زمین پر گرے، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے کچھ حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹس کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت پلانٹ کی سرگرمیاں فوری طور پر روک دی گئیں تاکہ صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے اور کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ متعلقہ ادارے اب نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور آگ کے اسباب کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے صنعتی مراکز میں معمولی حادثہ بھی بڑے خطرات کو جنم دے سکتا ہے، اسی لیے احتیاطی تدابیر کے تحت عارضی بندش ایک ضروری قدم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث حساس تنصیبات کو اضافی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث نہ صرف سیکیورٹی بلکہ توانائی کے شعبے پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی توانائی سپلائی اور مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے اور جلد ہی معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حفاظتی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں صنعتی تنصیبات بھی بالواسطہ طور پر جنگی اثرات کی زد میں آ سکتی ہیں، جس سے خطے کی مجموعی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔



