
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں فضائی نقصانات کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں امریکی اور اسرائیلی ڈرونز اور طیارے مار گرائے، جبکہ امریکی حکام ان دعوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 146 مختلف اقسام کے ڈرونز، جن میں جدید MQ-9 سمیت دیگر نگرانی اور حملہ آور ڈرون شامل ہیں، تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو اسٹیلتھ F-35 طیاروں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق صرف ایک طیارہ متاثر ہوا جس نے ہنگامی لینڈنگ کی۔
اوپن سورس تجزیوں اور مختلف رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو مجموعی طور پر کم از کم 17 فوجی طیاروں کا نقصان پہنچا ہے، جن میں لڑاکا طیارے، ٹرانسپورٹ جہاز اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔

ایک اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب کویتی فضائی دفاع نے غلطی سے تین امریکی F-15E طیاروں کو نشانہ بنا دیا، تاہم تمام عملہ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح ایک امریکی ری فیولنگ طیارہ فضاء میں تصادم کے باعث تباہ ہوا، جس میں عملے کے افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایران نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی، لیکن امریکی حکام نے اسے حادثہ قرار دیا۔
مزید برآں، سعودی عرب میں ایک اہم فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران ری فیولنگ طیاروں اور دیگر اہم اثاثوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے طیارے جدید فضائی جنگ میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ دیگر طیاروں کو فضا میں ہی ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
اسی دوران ایک امریکی F-15 طیارے کے گرائے جانے کی بھی تصدیق کی گئی، جس کے بعد اس کے پائلٹ کو تلاش کرنے اور ریسکیو کرنے کے لیے ایک بڑا آپریشن کیا گیا۔ اس واقعے نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایران اب بھی جدید طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ میں صرف لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانا ہی اہم نہیں بلکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز، ری فیولنگ طیاروں اور نگرانی کے پلیٹ فارمز کو نقصان پہنچانا زیادہ بڑا اسٹریٹجک اثر رکھتا ہے، کیونکہ اس سے فضائی کارروائیوں کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
یہ تمام صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ جنگ میں معلوماتی اور بیانیہ جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں ہر فریق اپنے نقصانات کو کم اور مخالف کے نقصانات کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اصل حقیقت تک پہنچنا تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔



