ایرانتازہ ترین

ایران پر حملے کی تیاری، اسرائیل کو ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر شدت لانے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ حتمی صورتحال کا انحصار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع فیصلے پر ہے۔

اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تل ابیب میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور حکام منگل کی ڈیڈ لائن کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، جو امریکی وقت کے مطابق شام 8 بجے مقرر کی گئی ہے۔

ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ صورتحال غیر یقینی ہے اور کسی بھی لمحے وقتی جنگ بندی کا امکان بھی موجود ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کے بعض حلقے یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہوں تاکہ فوجی کارروائی کو مزید وسعت دی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ممکنہ اہداف کی ایک فہرست تیار کر لی ہے، جس میں ایران کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہم مقامات شامل ہیں۔ یہ فہرست حالیہ دنوں میں اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی قیادت کو امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کے بدلتے انداز کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ وہ کبھی جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کرتے ہیں اور کبھی بڑے حملے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

ادھر امریکی صدر نے ایران کو مذاکرات کے لیے دی گئی مہلت میں ایک دن کی توسیع کرتے ہوئے منگل تک کا وقت دے دیا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے شرائط نہ مانیں تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو تہران کی جانب سے اسرائیلی شہروں اور اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ہنگامی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو یہ تنازعہ خطے میں وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ امریکہ کی ممکنہ براہ راست مداخلت خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button