
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے لیے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
فوجی و اسٹریٹجک تجزیہ کار کرنل ندال ابو زید کے مطابق موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ تعطل کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نہ فوجی دباؤ اور نہ ہی سفارتی کوششیں کوئی واضح نتیجہ دے سکی ہیں۔ ان کے بقول یہ کیفیت "زیرو سم اسٹیلمیٹ” کہلاتی ہے، جس میں کوئی بھی فریق دوسرے پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کی شدت کے باوجود ایران کو جھکانے کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ موجودہ حملوں کا اثر محدود رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت اقدامات کا امکان بڑھ رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں سختی لاتے ہوئے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ یا تو معاہدہ کیا جائے یا پھر "سنگین نتائج” کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہا جائے۔ انہوں نے منگل کی شام تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ حملوں کا جغرافیائی دائرہ ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں—خصوصاً ہرمزگان، شیراز اور کرمانشاہ—تک پھیلا ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا حساس اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنا کر بتدریج دباؤ بڑھا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی ایک سوچے سمجھے انداز میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے، جس کا مقصد فوری مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہی دباؤ بڑے حملے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطے بھی جاری ہیں، جن میں خطے کے بعض ممالک ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم اب تک ان مذاکرات سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
کرنل ابو زید کے مطابق امریکا اس وقت "کمبائنڈ ڈیٹرنس” کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے، جس میں طاقت کے استعمال کی دھمکی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا جاتا ہے، تاکہ بغیر طویل جنگ میں داخل ہوئے اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس حکمت عملی میں غلط اندازوں کا خطرہ بھی موجود ہے، کیونکہ فوجی دباؤ کو کسی بھی وقت حقیقی حملے کے آغاز کے طور پر لیا جا سکتا ہے، جس سے صورتحال اچانک بگڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے بنیادی ڈھانچے، جیسے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی ممکنہ دھمکیوں نے انسانی اور قانونی خدشات کو بھی جنم دیا ہے، کیونکہ ایسے حملوں سے عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طے شدہ وقت تک سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو امریکا محدود مگر مؤثر فوجی کارروائی کر سکتا ہے، جس کا مقصد مکمل جنگ کے بجائے طاقت کا مظاہرہ اور دباؤ بڑھانا ہوگا۔
مجموعی طور پر خطے کی صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور آئندہ چند دن نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔



