تازہ ترینچین

چین اور امریکا آمنے سامنے، مئی میں ٹرمپ اور شی کی اہم ملاقات

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکا اور چین، کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آٹھ سال بعد چین کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ سے متوقع ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کئی مراحل سے گزر چکی ہے، جس میں سخت ٹیرف، جوابی اقدامات اور بارہا مذاکرات شامل ہیں۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں کشیدگی کو کسی حد تک کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

2026 کے آغاز سے ہی دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ مارچ میں امریکا نے چینی صنعتوں کے خلاف نئی تجارتی تحقیقات شروع کیں، جس کے جواب میں چین نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے۔ اسی دوران پیرس میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار کو "تعمیری” قرار دیا گیا، مگر کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا۔

فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی عالمی ٹیرف پالیسی کو مسترد کیا، تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ تجارتی دباؤ برقرار رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ہی چین نے اپنی برآمدات کا رخ جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی جانب موڑ کر امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔

2025 کے دوران تجارتی کشیدگی اپنے عروج پر رہی، جب امریکا نے چینی مصنوعات پر اضافی 100 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی، جبکہ چین نے بھی جوابی اقدامات کرتے ہوئے نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں سخت کر دیں۔ ان اقدامات نے عالمی سپلائی چین اور ٹیکنالوجی سیکٹر کو شدید متاثر کیا۔

اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی تجارتی جنگ بندی سامنے آئی، جس کے تحت کچھ ٹیرف کم کیے گئے اور چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری بحال کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم اس کے باوجود باہمی اعتماد کی کمی برقرار رہی۔

ماہرین کے مطابق مئی میں ہونے والی متوقع ملاقات ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں دونوں ممالک کشیدگی کو مزید بڑھانے یا کم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے اور کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایک فریم ورک پر متفق ہو جائیں۔

دوسری جانب عالمی معیشت پر اس کشیدگی کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تجارتی رکاوٹوں، سپلائی چین میں تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتحال نے کاروباری اداروں کو نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں اب کمپنیاں ایک سے زیادہ ممالک میں سرمایہ کاری اور پیداوار پر توجہ دے رہی ہیں۔

مجموعی طور پر یہ واضح ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات ایک نازک توازن پر کھڑے ہیں، اور آئندہ ملاقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button