
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل کے شہر حیفا میں ایرانی میزائل حملے کے بعد کم از کم تین افراد لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ عمارت کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
اسرائیلی فائر سروسز کے مطابق میزائل ایک رہائشی عمارت سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں شدید نقصان ہوا اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، تاہم صورتحال پیچیدہ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن طویل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرنے والے ایک F-15E جنگی طیارے کے دونوں عملے کو کامیابی کے ساتھ بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ طیارہ 2 اپریل کو ایک جنگی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا تھا، جس کے بعد دونوں اہلکاروں کو علیحدہ علیحدہ مشنز میں ریسکیو کیا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن انتہائی خطرناک حالات میں کیا گیا، جبکہ خطے میں فوجی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ اس پیش رفت نے تنازعے کی شدت اور پیچیدگی کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات کے حوالے سے انہیں تشویش نہیں، کیونکہ ان کے بقول "ایرانی عوام یہی چاہتے ہیں”۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری حملوں، جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات کے باعث صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، جبکہ کسی بڑے تصادم کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیلیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



