
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران میں جاری جنگ کے دوران گرائے گئے امریکی جنگی طیارے کے ایک لاپتہ اہلکار کو تلاش کرنے کے لیے امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک ریسکیو آپریشن شروع کیا، جسے ماہرین “وقت کے خلاف دوڑ” قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی F-15E جنگی طیارہ ایرانی فائرنگ کے نتیجے میں تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد اس میں سوار دونوں اہلکاروں نے آخری لمحوں میں ایجیکٹ کیا۔ طیارہ زمین پر گر کر تباہ ہو گیا، جبکہ دونوں اہلکار دشمن علاقے میں بکھر گئے۔
ابتدائی طور پر پائلٹ کو چند گھنٹوں کے اندر ایک بڑے ریسکیو مشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم ویپن سسٹمز آفیسر (WSO) لاپتہ ہو گیا، جس کے بعد امریکی فوج کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔

حکام کے مطابق لاپتہ اہلکار تنہا، محدود وسائل کے ساتھ اور صرف ایک پستول کے سہارے دشمن علاقے میں چھپا رہا۔ وہ مسلسل اپنی یونٹ کے ساتھ رابطے میں رہا، جس نے اس کی لوکیشن کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس دوران امریکی فوج، خصوصی دستوں اور سی آئی اے کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر ایک وسیع سرچ آپریشن شروع کیا، جس میں فضائی نگرانی، خفیہ معلومات اور دھوکہ دہی کی حکمت عملی (deception tactics) بھی استعمال کی گئی تاکہ ممکنہ دشمن فورسز کو گمراہ کیا جا سکے۔
یہ آپریشن دو دن تک جاری رہا اور اس دوران خطے میں شدید خطرات لاحق رہے، کیونکہ ایرانی فورسز کی موجودگی اور ممکنہ گرفتاری کا خطرہ مسلسل برقرار تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر اہلکار دشمن کے ہاتھ لگ جاتا تو یہ نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک بڑا بحران بن سکتا تھا۔

بالآخر ایک مربوط اور خفیہ کارروائی کے ذریعے اس اہلکار کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا، جس میں ہیلی کاپٹرز، جنگی طیارے اور زمینی ٹیمیں شامل تھیں۔ اس ریسکیو کو امریکی فوج کی حالیہ تاریخ کے مشکل ترین مشنز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشنز جدید جنگ کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں ایک اہلکار کی بازیابی کے لیے بھی بڑی سطح پر وسائل اور حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ تنازعات میں نہ صرف میدان جنگ بلکہ معلوماتی اور نفسیاتی جنگ بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، جہاں ہر قدم انتہائی حساس اور فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ ریسکیو آپریشن جدید فوجی حکمت عملی، فوری ردعمل اور انسانی جان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کی سنگینی کو بھی واضح کرتا ہے۔



