
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 45 روزہ جنگ بندی کی ایک اہم تجویز پر بات چیت جاری ہے، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق فوری معاہدے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی ایک عارضی قدم کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور مستقبل میں مستقل امن معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع کم ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان، مصر اور ترکی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہ راست پیغامات کے ذریعے بھی رابطہ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات دراصل ایک "آخری موقع” کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، کیونکہ اگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، جیسے توانائی اور دیگر حساس تنصیبات، کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے جواب میں ایران بھی خلیجی ممالک میں توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف فوجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی دوہرا دباؤ خطے کو کسی بھی وقت بڑے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس جنگ کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز خطے میں امن کی ایک اہم امید کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار آئندہ چند دنوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہے، جو اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا جنگ کا دائرہ محدود ہوگا یا مزید وسیع۔



