
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بعض قانون سازوں اور تجزیہ کاروں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے آئین کی 25ویں ترمیم کے استعمال کا مطالبہ کر دیا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت لانے، اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سخت دھمکیاں دینے کا اعلان کیا۔ ان بیانات نے نہ صرف عالمی سطح پر تشویش کو بڑھایا بلکہ امریکی سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی سمیت کئی رہنماؤں نے ٹرمپ کے بیانات کو "خطرناک” اور "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات ہزاروں شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صدر کے فیصلے غیر متوازن ہوں تو آئین کے تحت انہیں عہدے سے ہٹانے کا راستہ موجود ہے۔
25ویں آئینی ترمیم دراصل ایک قانونی طریقہ کار فراہم کرتی ہے جس کے تحت صدر کو اس صورت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جب وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہیں۔ اس عمل کے لیے نائب صدر اور کابینہ کے اکثریتی ارکان کو یہ اعلان کرنا ہوتا ہے کہ صدر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں، جس کے بعد کانگریس اس پر حتمی فیصلہ کرتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا استعمال انتہائی نایاب اور غیر معمولی اقدام ہے، اور ماضی میں اسے صرف محدود اور عارضی حالات میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس پر کھل کر بحث ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

25ویں آئینی ترمیم کیا ہے؟
امریکہ کے آئین کی 25ویں ترمیم ایک ایسا قانونی طریقہ کار فراہم کرتی ہے جس کے تحت ایگزیکٹو (انتظامی) اختیارات کی بروقت، منظم اور جمہوری انداز میں منتقلی ممکن بنائی جاتی ہے۔ یہ ترمیم چار حصوں پر مشتمل ہے۔
پہلا حصہ یہ بتاتا ہے کہ اگر صدر کا انتقال ہو جائے یا وہ استعفیٰ دے دیں تو نائب صدر خود بخود صدر کے عہدے پر فائز ہو جائے گا۔
دوسرا حصہ یہ کہتا ہے کہ اگر نائب صدر کا عہدہ خالی ہو جائے تو صدر ایک نئے نائب صدر کا تقرر کرے گا، جسے کانگریس کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
تیسرا حصہ اس صورت حال سے متعلق ہے جب صدر عارضی طور پر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہوں، جیسے بیماری یا سرجری کی وجہ سے۔ اس صورت میں صدر خود اپنی طاقتیں اور اختیارات عارضی طور پر نائب صدر کو منتقل کر سکتا ہے۔
یہ ترمیم 1967 میں اس وقت منظور کی گئی تھی جب 1963 میں صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے بعد اقتدار کی منتقلی کے واضح نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔
ماضی میں اس ترمیم کے مختلف حصوں کو محدود مواقع پر استعمال کیا گیا ہے۔ 1973 میں جیرالڈ فورڈ کو نائب صدر مقرر کیا گیا، جبکہ 1974 میں رچرڈ نکسن کے استعفے کے بعد فورڈ صدر بنے۔
اسی طرح کچھ صدور نے تیسرے حصے کے تحت عارضی طور پر اپنے اختیارات منتقل کیے۔ 1985 میں رونالڈ ریگن نے سرجری کے دوران چند گھنٹوں کے لیے اختیارات منتقل کیے، جبکہ 2002 اور 2007 میں جارج ڈبلیو بش نے طبی معائنے کے دوران ایسا کیا۔ 2021 میں جو بائیڈن نے بھی مختصر وقت کے لیے اپنے اختیارات نائب صدر کو سونپے تھے۔
یہ ترمیم امریکی نظام حکومت میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم آئینی طریقہ کار سمجھی جاتی ہے۔
ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سفارتی حل نہ نکالا گیا تو اس بحران کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں فیصلوں کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے نتائج پورے خطے اور عالمی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔



