پاکستانتازہ ترین

روسی سیاح پاکستان کا رخ کریں گے؟ ایک ارب ڈالر آمدن کا بڑا ہدف سامنے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

پاکستان نے روسی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی حکمت عملی تیز کر دی ہے، جہاں حکام کو امید ہے کہ اس شعبے سے سالانہ ایک ارب ڈالر تک آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے روس میں سفیر فیصل نیاز ترمذی کے مطابق عالمی حالات میں تبدیلی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جن سے پاکستان فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بڑی تعداد میں روسی سیاح ترکی، مصر، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کا رخ کرتے تھے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان کم ہوا ہے، جس سے پاکستان جیسے نئے مقامات کے لیے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

سفیر کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ٹور آپریٹرز کے ذریعے روسی سیاحوں کے چھوٹے گروپس کو پاکستان لایا جا سکتا ہے، جسے بتدریج بڑھا کر سالانہ 50 ہزار سیاحوں تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگر اس منصوبے کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو صرف روسی سیاحت سے ہی ایک ارب ڈالر تک کی آمدن ممکن ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک روسی سیاح عموماً ایک سے دو ہفتوں کے سفر کے دوران ایک ہزار سے پانچ ہزار ڈالر تک خرچ کرتا ہے، جبکہ مختلف ممالک اس شعبے سے سالانہ اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ اسی ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی اپنی سیاحتی صنعت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقے، خصوصاً ہزارہ ڈویژن، اسکردو اور ہنزہ، غیر ملکی سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش ہیں، جہاں قدرتی مناظر، ثقافتی ورثہ اور ایڈونچر ٹورازم کے مواقع موجود ہیں۔ حالیہ برسوں میں سیاحتی سہولیات میں بہتری اور سکیورٹی صورتحال میں استحکام نے بھی پاکستان کو عالمی سیاحت کے نقشے پر نمایاں کیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مؤثر مارکیٹنگ، ایئر لائنز کے ساتھ روابط اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بہتر استعمال کیا جائے تو پاکستان سیاحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی سیاحوں کو متوجہ کرنا نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنا سکتا ہے، خاص طور پر تجارت، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button