
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج نے ایران کی سرزمین پر براہِ راست کارروائی کی تو یہ پورے خطے میں ایک وسیع اور خطرناک تصادم کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب صورتحال صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ممکنہ خفیہ آپریشنز، خصوصی فورسز کی کارروائیاں اور اہم تنصیبات پر محدود حملوں جیسے آپشنز بھی زیر غور آ چکے ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے مکمل زمینی جنگ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن بدلتی حکمت عملی نے خطے کے ممالک میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی فوجی موجودگی، چاہے محدود ہی کیوں نہ ہو، ایک "ریڈ لائن” عبور کرنے کے مترادف ہو سکتی ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران بلکہ اس کے اتحادی گروہ بھی مختلف محاذوں پر ردعمل دے سکتے ہیں۔
خطے کے ممالک کو خدشہ ہے کہ ایسی کسی کارروائی سے اہم عالمی تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں، خصوصاً سویز کینال اور خلیج فارس کے سمندری راستے، جو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر زمینی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں موجود مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں، جو متعدد محاذوں پر کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پہلے سے دباؤ کا شکار علاقائی معیشتیں مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ مکمل جنگ نہیں بلکہ ایک ایسے سلسلہ وار ردعمل کا آغاز ہے جسے روکنا مشکل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے کئی ممالک اب ممکنہ بدترین صورتحال کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں سفارتی راستہ اختیار کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ایک چھوٹی سی فوجی کارروائی بھی بڑے پیمانے پر بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



