
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے امریکی ڈیڈ لائن سے قبل خلیجی خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ کر ممکنہ جنگ بندی کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک واضح وقت مقرر کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے Persian Gulf کے مختلف علاقوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں، جس میں توانائی کے انفراسٹرکچر سے متعلق اہداف بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد دباؤ بڑھانا اور مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مزید سخت کارروائی کی گئی تو وہ اس کا جواب مزید شدت کے ساتھ دیں گے۔ اس تناظر میں خلیجی خطہ، جو پہلے ہی عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں اور جوابی دھمکیوں کے ماحول میں کسی بھی فوری جنگ بندی کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
علاقائی مبصرین کے مطابق اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو نہ صرف فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔



