(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایک انتہائی جدید اور خفیہ ٹیکنالوجی "گھوسٹ مرمر” (Ghost Murmur) کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے جنوبی علاقے میں گرائے گئے ایک امریکی فضائیہ کے اہلکار کو تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ اس ٹیکنالوجی کا پہلا عملی استعمال بتایا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ جدید نظام طویل فاصلے تک کام کرنے والی کوانٹم میگنیٹومیٹری اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہے، جو انسانی دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والے نہایت کمزور برقی سگنلز کو بھی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی فرد کی موجودگی کا سراغ میلوں دور سے لگایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ٹیکنالوجی شور اور دیگر پس منظر کے سگنلز میں سے مخصوص انسانی "الیکٹرو میگنیٹک فنگر پرنٹ” کو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے دشوار گزار علاقوں جیسے صحراؤں میں بھی کسی زندہ انسان کا پتہ لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔
ایک عہدیدار نے اس نظام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایسے ہے جیسے ایک بڑے اسٹیڈیم میں کسی ایک آواز کو سننا — لیکن یہاں اسٹیڈیم ہزاروں مربع میل پر پھیلا ہوا صحرا ہے۔ اگر آپ کا دل دھڑک رہا ہے، تو ہم آپ کو تلاش کر سکتے ہیں۔”
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جدید جنگی حالات میں تلاش و بچاؤ (Search and Rescue) آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی ٹیکنالوجی مستقبل میں فوجی کارروائیوں کے علاوہ قدرتی آفات اور ریسکیو مشنز میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگرچہ اس نظام کی مکمل تکنیکی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پیش رفت نگرانی اور جاسوسی کے نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں انسانی موجودگی کو چھپانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی اور پرائیویسی سے متعلق نئے سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔