(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ایک قابل عمل 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جو جنگ کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم بعد میں انہوں نے اسی منصوبے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے مزید وضاحت نہیں دی۔ دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے آغاز کے وقت سے متعلق تاحال واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے حملوں کی دھمکیوں میں بھی نرمی کا عندیہ دیا ہے، حالانکہ اس سے قبل انہوں نے انتہائی سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو "ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے”۔ اس بیان پر امریکی سیاستدانوں، اقوام متحدہ کے حکام اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس جنگ بندی منصوبے میں ایک غیر معمولی شق بھی شامل ہے، جس کے تحت ایران اور عمان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ماضی میں اس گزرگاہ کو بین الاقوامی پانی تصور کیا جاتا رہا ہے اور اس پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں کیا جاتا تھا، اس لیے یہ تجویز عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔
دوسری جانب صورتحال مکمل طور پر پرسکون نہیں ہوئی، کیونکہ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے خلاف حملے جاری ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی شرائط سے اتفاق کیا ہے۔ اسی دوران ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہوں گے، کیونکہ کسی بھی لمحے صورتحال دوبارہ کشیدہ ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔