(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ سرگرمیوں میں ملک کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے جدید ہائپرسانک بیلسٹک میزائل اور مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظاموں کی نمائش کی، جبکہ دفاعی صنعت کے ایک بڑے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔
ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری تصاویر میں صدر اردوان کو ایک جدید ہائپرسانک میزائل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، جسے ترکی کی مقامی دفاعی صنعت کی اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک تقریب میں مختلف جدید فضائی دفاعی نظاموں کی نمائش کا بھی جائزہ لیا، جو تیز رفتار میزائل خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی موقع پر صدر اردوان نے معروف ترک دفاعی کمپنی "روکیتسان” کے تحت ایک نئے بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس منصوبے کو ترکی کی دفاعی خودمختاری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جدید میزائل ٹیکنالوجی اور اسلحہ سازی کے شعبے میں مزید ترقی حاصل کرنا ہے۔
تقریب کے دوران صدر اردوان نے دعا میں بھی شرکت کی اور اس منصوبے کو قومی سلامتی اور مستقبل کی دفاعی ضروریات کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنی دفاعی صنعت کو مضبوط بنا کر نہ صرف اپنی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنائے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں دفاعی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔
ماہرین کے مطابق ترکی کی جانب سے ہائپرسانک ٹیکنالوجی اور جدید دفاعی نظاموں پر تیزی سے کام کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک جدید جنگی تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر رہا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف ترکی کی فوجی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں اس کی پوزیشن بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری ترکی کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ بیرونی انحصار کم کر کے خود کفالت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ اقدامات آنے والے برسوں میں خطے کے طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔