(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اور ایران بھی اس عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ "دنیا کے لیے امن کا بڑا دن” ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران سمیت دیگر فریقین اب کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
ٹرمپ کے مطابق اس پیش رفت کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب تعمیر نو کے عمل کا آغاز کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ مختلف اقسام کی امداد اور سامان کی فراہمی میں کردار ادا کرے گا تاکہ صورتحال مستحکم رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خطے میں موجود رہے گا تاکہ معاملات کی نگرانی کی جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے لیے ایک "سنہری دور” کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کے بیانات امید افزا ہیں، تاہم زمینی حقائق اور جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقے میں استحکام عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اگر یہاں صورتحال بہتر ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں مستقل امن کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ اور متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی۔