بیلسٹک میزائل لانچ، شمالی کوریا نے دنیا کو خبردار کر دیا
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
سیول: شمالی کوریا نے ایک بار پھر متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور جنوبی کوریا کی جانب سے تعلقات میں بہتری کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ تجربات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری تھیں، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے مسلسل میزائل لانچز نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شمالی کوریا کی دفاعی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی پیغام بھی دیتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے حکام نے ان تجربات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق میزائل تجربات نہ صرف عسکری توازن کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سفارتی مذاکرات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا ماضی میں بھی ایسے تجربات کو مذاکراتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، تاکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنی پوزیشن مضبوط بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات داخلی سطح پر طاقت کا مظاہرہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف کورین جزیرہ نما بلکہ عالمی سیکیورٹی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ مسلسل کشیدگی کسی بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔