اسرائیلتازہ ترین

لبنان میں اسرائیلی فضائی حملہ جنگ بندی کے باوجود حملے نہ رک سکے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب چند گھنٹے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جس کے بعد خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے تسلسل کے اشارے ملے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مؤقف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار حملے کے بعد جنوبی لبنان میں فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔ ان مسلسل حملوں کے باعث اب تک دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ حملوں نے نہ صرف جانی نقصان کیا بلکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جبکہ امدادی ادارے صورتحال کو تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود لبنان میں جاری کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں تنازع کے مختلف محاذ الگ الگ سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے مکمل امن کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر لبنان میں کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو یہ نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، اور کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑنے کا خطرہ موجود ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button