ایرانتازہ ترین

ایران جنگ کے بعد نیٹو میں اختلافات، ٹرمپ اور روٹے کی اہم ملاقات

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے درمیان ایک اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اعتماد میں کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں نیٹو اتحاد پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اس فوجی اتحاد سے علیحدگی پر غور کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب نیٹو ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکی مطالبے کا بھرپور ساتھ نہیں دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ تاہم اس عمل کی تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں، اور یہی موضوع ٹرمپ اور روٹے کی ملاقات میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

نیٹو، جو 1949 میں قائم ہوا تھا، ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر مبنی اتحاد ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس شق کو اب تک صرف ایک بار 2001 میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد فعال کیا گیا تھا۔

امریکی کانگریس نے 2023 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت کوئی بھی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر نیٹو سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکتا، تاہم ٹرمپ ماضی میں اس اتحاد پر تنقید کرتے رہے ہیں اور اس کی افادیت پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

ادھر امریکی سیاستدانوں نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیا ہے۔ سینیٹر مچ میک کونل نے نیٹو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اتحادی ممالک نے امریکہ کے ساتھ مل کر اہم جنگوں میں حصہ لیا، اس لیے موجودہ حالات میں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ملاقات ٹرمپ کے خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہی تو امریکہ اور نیٹو کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال عالمی اتحادوں کے مستقبل کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button