امریکاتازہ ترین

امریکی وزیر دفاع کا بیان، ایران پر دباؤ کی حکمت عملی سامنے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع نے حالیہ بیانات میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، فوجی کارروائیوں اور جنگ بندی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے دباؤ کی ایسی حکمت عملی اختیار کی جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، تاہم ایرانی عوام کے لیے موجودہ حالات ایک موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایران کی توانائی اور دفاعی صلاحیت متاثر ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کے اہم مقامات، خصوصاً توانائی اور فوجی تنصیبات، امریکہ کے نشانے پر تھے، اور امریکی قیادت نے واضح پیغام دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کا باعث بنا۔

امریکی وزیر دفاع نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی افواج کو واضح ہدایات دے کہ جنگ بندی کے دوران ڈرون یا میزائل حملے نہ کیے جائیں، کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں کشیدگی کو دوبارہ بڑھا سکتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے دوران کسی بھی امریکی فوجی کو اضافی خطرے میں نہیں ڈالا گیا، اور تمام اقدامات احتیاط کے ساتھ کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی فوج کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک نے بھی ان کارروائیوں کے ذریعے امریکہ کی حقیقی عسکری طاقت کا مشاہدہ کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج فی الحال پس منظر میں رہتے ہوئے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ ایران کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔

آخر میں انہوں نے امریکی فوجی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں، تاہم انہیں مستقبل کے ممکنہ چیلنجز کے لیے تیار اور چوکس رہنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان نہ صرف امریکی مؤقف کی وضاحت کرتا ہے بلکہ خطے میں جاری سفارتی اور عسکری حکمت عملی کی عکاسی بھی کرتا ہے، جہاں دباؤ اور مذاکرات دونوں کو بیک وقت استعمال کیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button