(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر ایک بار پھر کھل کر تنقید کی ہے، تاہم حالیہ ملاقات کے بعد انہوں نے فوری طور پر اس دفاعی اتحاد سے علیحدگی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیٹو کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات کے دوران اپنے تحفظات کا اظہار کیا، لیکن تعلقات مکمل طور پر ختم کرنے سے گریز کیا۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں نیٹو کے رکن ممالک سے خاصے ناراض دکھائی دیتے ہیں، خصوصاً اس بات پر کہ کئی یورپی ممالک نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ اس صورتحال نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اتحاد کی اہمیت، مشترکہ سکیورٹی اور موجودہ عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اب بھی نیٹو سے زیادہ مالی اور عسکری تعاون کی توقع رکھتا ہے، جبکہ یورپی ممالک اپنی خودمختار پالیسیوں پر قائم ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی سخت بیان بازی دراصل دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ اتحادی ممالک اپنی ذمہ داریاں زیادہ سنجیدگی سے لیں۔ دوسری جانب یہ بھی واضح ہے کہ موجودہ عالمی حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایسے کسی بڑے فیصلے کو فوری طور پر مشکل بنا دیتے ہیں۔
نیٹو، جو کئی دہائیوں سے مغربی دفاعی نظام کا ستون رہا ہے، اس وقت اندرونی اختلافات اور بدلتی عالمی سیاست کے باعث ایک نئے امتحان سے گزر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اب بھی اس اتحاد کا مرکزی کردار ہے، لیکن اس کی پالیسیوں میں تبدیلی عالمی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر حالیہ پیش رفت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا اور نیٹو کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ضرور موجود ہے، مگر فی الحال دونوں فریق مکمل علیحدگی کے بجائے تعلقات کو برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔