امریکاتازہ ترین

25ویں ترمیم کے ذریعے ٹرمپ کو ہٹانا، کیا یہ ممکن ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن: امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ متنازع بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جس میں انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر ڈیموکریٹ اراکین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا 25ویں آئینی ترمیم کو استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق ایک سخت بیان دیا، جس پر ناقدین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ بعض قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات عالمی سطح پر خطرناک اثرات ڈال سکتے ہیں، اس لیے آئینی اقدامات پر غور ضروری ہے۔

امریکا کی 25ویں ترمیم کے تحت صدر کو اس صورت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جب نائب صدر اور کابینہ کے زیادہ تر ارکان یہ فیصلہ کریں کہ صدر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔ تاہم ماہرین قانون کے مطابق اس عمل کو عملی شکل دینا انتہائی مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے نہ صرف کابینہ بلکہ سیاسی قیادت کی وسیع حمایت درکار ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اس طرح کا اتفاق رائے پیدا کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر جب صدر کو اپنی جماعت کے اندر اب بھی خاصی حمایت حاصل ہو۔ مزید یہ کہ اگر یہ عمل شروع بھی کیا جائے تو کانگریس میں بھی اس پر سخت سیاسی کشمکش متوقع ہے۔

کچھ مبصرین کے مطابق 25ویں ترمیم کا ذکر زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں اسے استعمال کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس کے برعکس، ایسے اقدامات سے سیاسی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے اور حکومتی معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کے بیانات نے سیاسی ہلچل ضرور پیدا کی ہے، لیکن انہیں آئینی طریقے سے ہٹانا ایک پیچیدہ، طویل اور غیر یقینی عمل ہے، جس کے لیے فی الحال واضح سیاسی اتفاق رائے موجود نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button