ایرانتازہ ترین

عباس عراقچی کی حکمت عملی، کیا ایران کو فائدہ ہوگا؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کو ملک کی حالیہ تاریخ کے سب سے بااثر سفارتکاروں میں شمار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد امن مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے نمائندوں کی پاکستان میں ملاقات متوقع ہے، جہاں ایک طویل المدتی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔ یہ جنگ بندی چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد عمل میں آئی، جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو متاثر کیا بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ عباس عراقچی اس عمل میں ایک مرکزی سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات میں احتیاط برتی جائے گی کیونکہ واشنگٹن پر اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

عباس عراقچی 2024 سے ایران کے وزیر خارجہ ہیں اور انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی اور قابل اعتماد سفارتکار سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ماضی میں بھی امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے اہم مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جن کے نتیجے میں 2015 کا جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔

عراقچی کی سفارتی حکمت عملی کو اکثر "بازار کے انداز” سے تشبیہ دی جاتی ہے، جس میں صبر، مسلسل بات چیت اور سودے بازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ مذاکرات میں جلد بازی کے بجائے مستقل مزاجی اور حکمت ضروری ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عراقچی ایک سنجیدہ، تکنیکی معاملات پر عبور رکھنے والے اور واضح مؤقف رکھنے والے سفارتکار ہیں۔ ان کی شخصیت میں صبر اور سخت موقف دونوں کا امتزاج پایا جاتا ہے، جو انہیں مشکل حالات میں بھی مؤثر مذاکرات کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ان کی زندگی کا سفر بھی غیر معمولی رہا ہے۔ 1962 میں تہران میں ایک مذہبی اور کاروباری خاندان میں پیدا ہونے والے عراقچی نے کم عمری میں ایرانی انقلاب کا حصہ لیا اور بعد ازاں ایران-عراق جنگ میں بھی حصہ لیا۔ بعد میں انہوں نے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا اور مختلف اہم ممالک میں ایران کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، جن میں فن لینڈ اور جاپان شامل ہیں۔

انہوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف کینٹ سے سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کی سفارتی مہارت کو مزید مضبوط کیا۔ ایرانی سیاسی حلقوں میں انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مختلف دھڑوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عباس عراقچی کا کردار نہایت اہم ہو چکا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ایران کے مؤقف کی نمائندگی کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران شدید ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عباس عراقچی کی قیادت میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کے لیے اہم ہیں بلکہ ان کے نتائج کا اثر عالمی سیاست، توانائی مارکیٹ اور خطے کے امن پر بھی پڑ سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button