اسرائیلتازہ ترین

سیٹلائٹ تصاویر نے اصفہان ایئرپورٹ پر شدید تباہی کی تصدیق کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

تہران: ایران کے شہر اصفہان میں واقع “شہید بہشتی” ایئرپورٹ کمپلیکس اور اس کے گرد و نواح کے فوجی علاقوں پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد ہونے والی تباہی کی تفصیلات سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے سامنے آ گئی ہیں، جن سے بڑے پیمانے پر نقصان کی تصدیق ہوتی ہے۔

حالیہ اور حملوں سے پہلے کی تصاویر کا موازنہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں موجود اسلحہ ڈپو اور تکنیکی عمارتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ حملے سے پہلے یہاں مضبوط حفاظتی باڑ کے اندر بڑی سٹوریج عمارتیں اور کنکریٹ کے محفوظ ڈھانچے موجود تھے، جنہیں حساس فوجی سازوسامان اور گولہ بارود کے ذخیرے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاہم تازہ تصاویر میں کم از کم تین بڑی عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، جبکہ جگہ جگہ آگ اور دھماکوں کے نشانات بھی دیکھے گئے ہیں، جو ثانوی دھماکوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایئرپورٹ کے رن وے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تصاویر کے مطابق رن وے اور ٹیکسی ویز پر گہرے گڑھے بن چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی آمدورفت کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض طیارہ شیڈز (ہینگرز) کو بھی نقصان پہنچا ہے، جن کی چھتوں میں سوراخ دیکھے گئے، جو ممکنہ طور پر طاقتور بموں کے استعمال کا نتیجہ ہیں۔

قریب ہی واقع صنعتی تنصیبات، خاص طور پر “اصفہان آپٹکس انڈسٹریز” بھی حملوں کی زد میں آئیں۔ یہاں ایک انتظامی عمارت اور تکنیکی لیبارٹری کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ وہ تنصیبات ہیں جنہیں مبینہ طور پر ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے جوڑا جاتا رہا ہے اور جو پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں بھاری وزن کے جدید بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے، جو زمین کے اندر تک گھس کر مضبوط ڈھانچوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تصاویر میں عمارتوں کے مکمل انہدام اور گہرے نقصانات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ایران کے فوجی انفراسٹرکچر کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ فضائی دفاعی نظام اور مرکزی فضائی اڈوں کے درمیان ایک اہم رابطہ فراہم کرتا ہے۔ اس پر حملہ ایران کی لاجسٹک اور دفاعی صلاحیت پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

مجموعی طور پر سیٹلائٹ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری 2026 میں جہاں یہ علاقہ منظم اور فعال تھا، وہیں اپریل کے آغاز تک یہاں وسیع پیمانے پر تباہی اور بے ترتیبی پھیل چکی ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جدید جنگی حکمت عملیوں کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button