واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران، نیٹو اور عالمی سکیورٹی معاملات پر متعدد سخت بیانات دیے ہیں، جن سے عالمی سطح پر کشیدگی اور سفارتی بحث میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو واضح وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل نہ کیا تو سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی طاقت خطے میں موجود رہے گی اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
اسی کے ساتھ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا، کیونکہ یہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ امریکا نے اس حوالے سے یورپی اتحادیوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ جلد از جلد ایک واضح اور مؤثر سکیورٹی منصوبہ پیش کریں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایران مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “جعلی” اور “من گھڑت” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی رپورٹس کا مقصد امن عمل کو نقصان پہنچانا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے سخت مؤقف اپنایا۔ انہوں نے نیٹو اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہ اتحاد امریکا کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا اور آئندہ بھی اس سے ایسی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کے اس بیان نے مغربی ممالک کے درمیان تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک واضح حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے تحت امریکا بیک وقت فوجی دباؤ اور سفارتی پیغام رسانی کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سخت زبان اور پالیسی عالمی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز، ایران کے ساتھ مذاکرات اور نیٹو کے ساتھ تعلقات تینوں ایسے عوامل ہیں جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔