ایرانتازہ ترین

ایران سے افزودہ یورینیم یا ڈیل سے لیا جائے گا، ورنہ فوجی کارروائی ہوگی۔ نیتن یاہو

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے پر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، چاہے یہ سفارتی معاہدے کے ذریعے حل ہو یا فوجی کارروائی کے ذریعے۔

اپنے حالیہ بیانات میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ آپشنز زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل ان سفارتی کوششوں سے مکمل طور پر مطمئن نہیں اور وہ ایران کے خلاف زیادہ سخت حکمت عملی کا حامی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا مؤقف طویل عرصے سے یہی رہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے اور اپنے پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان توازن انتہائی نازک ہو چکا ہے، اور آنے والے دنوں میں کیے جانے والے فیصلے خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button