اسرائیلتازہ ترین

اسرائیلی بمباری میں یورپی ملک کا وزیر خارجہ بال بال بچ گیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

بیروت: لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران ایک یورپی سفارتی شخصیت نے بیروت کا دورہ کرتے ہوئے لبنانی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور حالیہ حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

بیان کے مطابق وہ بیروت پہنچے تھے تاکہ لبنانی حکام کی حمایت کی جائے اور ان خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم ان کے دورے کے دوران ہی صورتحال نے اچانک سنگین رخ اختیار کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق جب لبنانی صدر کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش کو سراہا جا رہا تھا، اسی دوران اسرائیل نے بغیر کسی پیشگی وارننگ کے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ ان حملوں کو حالیہ تنازع کے آغاز کے بعد شدید ترین کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جن میں مبینہ طور پر بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق وفد اس وقت بیروت میں سفارت خانے میں موجود تھا اور حملوں کی جگہ سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر تھا، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے اور موجودہ امریکی، اسرائیلی اور ایرانی جنگ بندی کے دائرہ کار میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ خطے میں مزید انسانی نقصان کو روکا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے، جہاں کسی بھی وقت حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی زور دیا جا رہا ہے کہ سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

مجموعی طور پر صورتحال اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، اور اس کے اثرات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ عالمی امن و استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button