ایرانتازہ ترین

ہرمز میں رکاوٹ برقرار، عالمی تیل سپلائی دباؤ کا شکار

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ تیل عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکی اور ایران کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے سخت نگرانی اور شرائط عائد کر رکھی ہیں، جس کے تحت جہازوں کو مخصوص قواعد کے تحت ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق تمام بحری آمدورفت اس کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد حالات میں بہتری کی امید کی جا رہی تھی، تاہم عملی طور پر صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کئی شپنگ کمپنیاں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کو عالمی تیل سپلائی کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے باعث عالمی منڈیوں پر فوری اثر پڑتا ہے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سپلائی چین پر دباؤ برقرار ہے، جبکہ مارکیٹ کو اس بات کا انتظار ہے کہ یہ راستہ کب مکمل طور پر بحال ہوگا۔ اگر پابندیاں جاری رہیں تو عالمی معیشت پر اس کے مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں استحکام ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا، اور آبنائے ہرمز بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button