تل ابیب/بیروت: اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور حالیہ حملوں میں تنظیم کے ایک اہم عہدیدار کے قریبی ساتھی کو جاں بحق کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق بیروت میں کیے گئے ایک حملے میں حزب اللہ کے سربراہ کے ذاتی سیکریٹری کو نشانہ بنایا گیا، جسے تنظیم کے اندر ایک اہم کردار کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
فوجی بیان کے مطابق جنوبی لبنان میں بھی رات بھر مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، جہاں مبینہ طور پر اسلحہ کے ذخائر، راکٹ لانچنگ سسٹمز اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسلحہ کی منتقلی روکنے اور سکیورٹی خطرات کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب لبنان میں ان حملوں کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں شہری انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا ہے۔ امدادی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب رہنے والے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، اور کسی بھی وقت یہ تنازع وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے۔