اسرائیلتازہ ترین

مسجد اقصیٰ میں جانور داخل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

یروشلم: رواں سال یہودی تہوار پاس اوور کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جانوروں کی قربانی داخل کرنے کی متعدد کوششوں کی اطلاعات نے ایک بار پھر اس حساس مقام کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ایسی کم از کم سات کوششیں کی گئیں، جو 1967 کے بعد اب تک کی سب سے زیادہ تعداد سمجھی جا رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنایا اور کسی بھی جانور کو مسجد اقصیٰ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم ان واقعات کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ مسجد کے اطراف میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

فلسطینی حلقوں اور مذہبی رہنماؤں نے ان اقدامات کو شدید اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کوششیں مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتی ہیں اور بڑے پیمانے پر ردعمل کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے بلکہ اس کی حیثیت عالمی سطح پر بھی انتہائی حساس ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ سکیورٹی برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت نگرانی ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاس اوور جیسے مذہبی مواقع پر اس نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں، اور معمولی سی چنگاری بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی برادری بارہا ایسے مواقع پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسجد اقصیٰ کا معاملہ صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذہبی مقامات سے جڑے تنازعات اب بھی خطے کی سیاست اور سکیورٹی کا اہم پہلو ہیں، اور ان کے حل کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں اور احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button