(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
واشنگٹن: ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد کے درمیان اسرائیل کے حوالے سے رائے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں بڑی تعداد اب منفی نقطہ نظر رکھتی ہے۔
تحقیق کے مطابق 18 سے 49 سال کے امریکیوں میں اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھنے والوں کی شرح خاصی بڑھ گئی ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ اس عمر کے گروپ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے تقریباً 84 فیصد افراد اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی یہ شرح 57 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں اس نوعیت کی اکثریت ایک غیر معمولی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ ماضی میں اسرائیل کو امریکا میں عمومی طور پر وسیع حمایت حاصل رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال، میڈیا کوریج، انسانی حقوق کے مسائل اور سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی بحث شامل ہیں۔ نئی نسل عالمی معاملات کو مختلف زاویے سے دیکھ رہی ہے، جس کا اثر خارجہ پالیسی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مزید یہ کہ مجموعی طور پر مستقبل کی امریکی نسل میں تقریباً 70 فیصد افراد اسرائیل کے بارے میں منفی تاثر رکھتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکا کی پالیسیوں میں تبدیلی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر رائے عامہ میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عوامی سوچ تیزی سے بدل رہی ہے اور حکومتوں پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ سروے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کے حوالے سے روایتی حمایت میں کمی آ رہی ہے، اور نئی نسل کے خیالات مستقبل کی سیاسی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔