ایرانتازہ ترین

ایران کے پاس 17 ہزار سے زائد میزائل موجود، مغربی اندازوں کو چیلنج کر دیا گیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

برازیل سے تعلق رکھنے والی دفاعی امور کی تجزیہ کار Patricia Marins نے ایران کے میزائل ذخیرے سے متعلق مغربی اندازوں کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ Iran کے پاس 17 ہزار سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں، جو عام طور پر پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ سال ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ان کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 20 ہزار میزائل تھے، جن میں 7 سے 8 ہزار بیلسٹک جبکہ 12 سے 13 ہزار کروز میزائل شامل تھے۔ ان کے مطابق اس تعداد میں فعال میزائلوں کے ساتھ ساتھ ذخیرہ کیے گئے ریزرو یونٹس بھی شامل ہیں۔

تجزیہ کار کے مطابق ایران نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں شاہاب سیریز کے ذریعے بڑے پیمانے پر میزائل پیداوار کا آغاز کیا، جس کے بعد مختلف ماڈلز متعارف کروائے گئے۔ ابتدائی میزائلوں میں درستگی کے مسائل ضرور تھے، تاہم 2015 کے بعد ایران نے اپنے میزائل پروگرام میں بڑی اپ گریڈیشن کی، جس کے تحت گائیڈنس سسٹمز اور وارہیڈز کو جدید بنایا گیا۔

مارنز کا کہنا ہے کہ اگر محتاط اندازے کے تحت بھی ہر ماڈل کی سالانہ پیداوار تقریباً 100 یونٹس مانی جائے تو گزشتہ 15 برسوں میں ایران کا مجموعی میزائل ذخیرہ 17 ہزار سے تجاوز کر جاتا ہے۔ ان کے مطابق 2010 تک ایران کم از کم 12 مختلف میزائل ماڈلز تیار کر رہا تھا، جبکہ 2015 کے بعد ایک ہزار کلومیٹر سے زائد رینج رکھنے والے متعدد جدید ماڈلز بھی شامل ہو گئے۔

انہوں نے خاص طور پر کروز میزائل جیسے “سومار” اور “مشکات” جبکہ بیلسٹک میزائل جیسے “عماد” اور “سجیل” کا ذکر کیا، جن کی رینج 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق یہ صلاحیت خطے میں ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

مارنز نے مغربی تھنک ٹینکس کے ان اندازوں کو مسترد کیا جن میں فروری تک ایران کے پاس صرف 2500 میزائل ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین دہائیوں سے مسلسل پیداوار رکھنے والے ملک کے لیے یہ تعداد غیر منطقی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ دیگر ممالک جنگی حالات میں بھی ہزاروں میزائل سالانہ تیار کر رہے ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے میزائل پروگرام کے لیے ایک وسیع دفاعی نظام تشکیل دیا ہے، جس میں 300 سے زائد کمپنیاں براہ راست اس شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی ادارے دفاعی شعبے کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایسے اندازے حتمی نہیں ہوتے اور مختلف ممالک کے انٹیلیجنس ادارے عموماً اپنی معلومات خفیہ رکھتے ہیں، جس کے باعث اصل تعداد کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، ایران کا میزائل پروگرام خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button