(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق CNN نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے اہم ترین سائنسی ادارے National Supercomputing Center Tianjin پر ایک بڑے سائبر حملے میں انتہائی حساس دفاعی معلومات لیک ہو گئی ہیں، جس نے عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق “FlamingChina” نامی ہیکر گروپ نے اس مرکز کے سسٹمز میں داخل ہو کر مبینہ طور پر 10 پیٹا بائٹس تک ڈیٹا حاصل کیا، جس میں جدید ہتھیاروں کے ڈیزائن، میزائل ٹیکنالوجی، دھماکوں کی سمیولیشنز، اسٹیلتھ طیاروں کے ماڈلز اور نیوکلیئر آبدوزوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حجم غیر معمولی ہے اور اس کا موازنہ دنیا کی بڑی لائبریریوں کے ڈیجیٹل ریکارڈ سے بھی کیا جا رہا ہے۔
لیک ہونے والے مواد میں چین کے جدید لڑاکا طیارے J-20، چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کے تصورات، ہائپرسونک ہتھیاروں کے نظام اور امریکی فوجی اہداف سے متعلق تجزیاتی ڈیٹا بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈیٹا حقیقی ہو سکتا ہے، تاہم اس کی مکمل آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ڈیٹا ڈارک ویب فورمز پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سیکیورٹی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معلومات درست ثابت ہوئیں تو چین کی برسوں کی دفاعی تحقیق اور سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کی جانب سے ایران کو میزائل پروگرام سے متعلق کیمیائی مواد کی فراہمی اور خطے میں اسٹریٹجک سرگرمیاں جاری ہیں، جس کے باعث یہ لیک مزید حساسیت اختیار کر گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس، جہاں مالی پابندیوں سے بچنے کا ذریعہ بن رہے ہیں، وہیں سائبر جاسوسی اور حساس معلومات کی غیر قانونی تجارت کو بھی آسان بنا رہے ہیں۔
تاحال چینی حکام کی جانب سے اس مبینہ سائبر حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہم اور ممکنہ طور پر گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر دفاعی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔