(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل کے وزیر خزانہ Bezalel Smotrich نے مغربی کنارے میں ایک نئی بستی کی افتتاحی تقریب کے دوران ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل آئندہ مرحلے میں مختلف محاذوں پر اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کی پالیسی اختیار کر سکتا ہے، جس پر خطے میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک “فیصلہ کن سیاسی راستہ” اختیار کیا جائے گا جس کے نتیجے میں اسرائیلی سرحدوں میں توسیع ہو سکتی ہے۔ اسی طرح لبنان کے حوالے سے انہوں نے دریائے لیتانی تک پیش قدمی کا ذکر کیا، جبکہ شام کے تناظر میں جبلِ شیخ (ماؤنٹ ہرمون) اور گولان کی پہاڑیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ممکنہ حکمت عملی کا اشارہ دیا۔
سموتریچ کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب Israel کو غزہ اور شمالی سرحدوں پر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سفارتی سطح پر تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ خطے میں جاری تنازعات کو مزید پیچیدہ بھی بنا سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق، سرحدی توسیع کے اشارے بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس بیان کو باضابطہ پالیسی قرار نہیں دیا گیا، تاہم یہ واضح ہے کہ داخلی سیاسی حلقوں میں سخت مؤقف رکھنے والے عناصر خطے میں جارحانہ حکمت عملی کے حامی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ایسے بیانات کا وقت بھی اہم ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی متعدد محاذوں پر کشیدگی موجود ہے، اور کسی بھی نئی پیش رفت سے صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔