(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران NATO کے اندر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں امریکہ کو یورپی فوجی اڈوں تک رسائی دینے کے معاملے پر اتحادی ممالک کے درمیان واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق United States نے ایران کے خلاف اپنی ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے یورپ میں موجود نیٹو اڈوں کے استعمال کی خواہش ظاہر کی، تاہم کئی یورپی ممالک نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں اور انہیں براہِ راست تنازع کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ نیٹو اتحادی امریکہ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے مشترکہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد ایران سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اتحاد کے اندر اتفاقِ رائے کا فقدان نیٹو کی یکجہتی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے ساتھ کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے لیے یورپی اڈوں کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں یورپی ممالک محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے براہِ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
مزید برآں، بعض یورپی رہنماؤں کا خیال ہے کہ سفارتی حل کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ فوجی آپشن آخری راستہ ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس امریکہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے، جس کے باعث اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو کے اندر اس نوعیت کے اختلافات مستقبل میں اتحاد کی سمت اور اس کی عالمی کردار پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔