(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں کسی بھی قسم کی جنگ بندی موجود نہیں اور اسرائیلی افواج حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی مکمل طور پر بحال ہونے تک حملے نہیں روکے گا۔
ایک ریکارڈ شدہ بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی رہے گی اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے حوالے سے ابہام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لبنان کا محاذ اب بھی کھلا ہوا ہے، چاہے دیگر علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہوں۔ اس سے خطے میں ایک وسیع تر تنازع کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے، جہاں کسی بھی وقت حالات مزید بگڑنے کا امکان موجود ہے۔