(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی میں حکومتی اتحادی جماعت کے ایک اہم رہنما کی جانب سے روس اور چین کے ساتھ ممکنہ اتحاد کی تجویز نے عالمی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نئی صف بندیوں کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ترک پارلیمنٹ کے رکن اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے نائب چیئرمین İlyas Topşaçal نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ماسکو کا دورہ کیا، جس کا مقصد ترکی، روس اور چین کے درمیان ممکنہ اتحاد کے خیال کو آگے بڑھانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام پارٹی رہنما Devlet Bahçeli کی تجویز پر کیا گیا، جس کے مطابق ترکی کو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں امریکا اور اسرائیل کے اتحاد کے مقابلے میں نئے شراکت دار تلاش کرنے چاہئیں۔
روسی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے توپشاجال نے کہا کہ ماسکو میں ان کی ملاقاتیں مختلف سیاسی رہنماؤں، حکام اور دانشوروں سے ہوئیں، جہاں انہوں نے اس مجوزہ اتحاد کی تفصیلات پر بات چیت کی۔ ان کے مطابق ترکی، روس اور چین کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف اقتصادی سطح پر بلکہ سیکیورٹی کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور ایسے میں ترکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لاتے ہوئے متبادل اتحاد قائم کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تجویز فی الحال ابتدائی سطح پر ہے، تاہم اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ترکی اپنی خارجہ حکمت عملی میں نئی راہیں تلاش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں بلاکس کی شکل بدل رہی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے اتحاد کا عملی شکل اختیار کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں کئی سفارتی، معاشی اور دفاعی چیلنجز شامل ہیں، تاہم اس پر بحث کا آغاز خود ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے وقت میں عالمی سیاست مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جہاں مختلف ممالک اپنی ترجیحات کے مطابق نئے اتحاد بنانے کی کوشش کریں گے۔