(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل میں ایک اور مبینہ جاسوسی کیس سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان پر ایران کے لیے حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس نے سیکیورٹی اداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 21 سالہ Moshe Lahovitz کے خلاف یروشلم کی عدالت میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے ایک ایرانی انٹیلیجنس ایجنٹ کے ساتھ رابطہ رکھا اور مبینہ طور پر مالی معاوضے کے بدلے مختلف مقامات کی نگرانی اور ویڈیو ریکارڈنگ کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر ٹیلیگرام کے ذریعے زیادہ معاوضے والی نوکری کی تلاش کے دوران اس نیٹ ورک سے رابطہ قائم کیا، جہاں اسے کرپٹو کرنسی میں ہزاروں ڈالر کی پیشکش کی گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسے یروشلم اور رعنانا سمیت مختلف علاقوں میں مخصوص مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا کام دیا گیا۔
استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ مقدمے کے اختتام تک ملزم کو حراست میں رکھا جائے، جبکہ سیکیورٹی ادارے اس کیس کو اسرائیل میں مبینہ غیر ملکی جاسوسی سرگرمیوں کے وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے نوجوانوں کو مالی ترغیبات دے کر حساس معلومات حاصل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز نہ صرف سیکیورٹی خدشات کو بڑھاتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جاسوسی کے لیے کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نگرانی اور قانونی کارروائیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو بھی مشکوک سرگرمیوں سے آگاہ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔