(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف اپنی حالیہ فضائی مہم کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس مہم کی شدت اور وسعت واضح ہوتی ہے۔
اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق “آپریشن روئرنگ لائن” کے تحت Iran کے اندر ایک ہزار سے زائد فضائی حملے کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 8 ہزار 500 سے زیادہ آپریشنل مشنز انجام دیے گئے۔
فوجی اعداد و شمار کے مطابق اس مہم کے دوران تقریباً 18 ہزار سے زائد بم گرائے گئے اور 4 ہزار کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فوجی انفراسٹرکچر، میزائل لانچنگ سائٹس اور دفاعی نظام کے اہم حصے شامل تھے۔
مزید تفصیلات کے مطابق 10 ہزار 800 سے زائد مخصوص مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا، جن میں 6 ہزار 700 سے زیادہ ایسے عناصر شامل تھے جو براہِ راست ایران کے دفاعی ڈھانچے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Pakistan کی ثالثی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اعداد و شمار کا جاری کیا جانا نہ صرف عسکری طاقت کا اظہار ہے بلکہ مذاکراتی عمل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فضائی مہم حالیہ برسوں کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کی جا رہی ہے، جس نے خطے میں طاقت کے توازن اور سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ جنگ بندی کی بات چیت جاری ہے، تاہم اس سطح کی فوجی کارروائیوں کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، اور کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔