(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تائیوان نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے متعدد جنگی طیارے اس کی فضائی حدود کے قریب دیکھے گئے، ایسے وقت میں جب بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ ایک اپوزیشن رہنما سے اہم ملاقات کر رہے تھے۔ اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تائیوان کی وزارتِ دفاع کے مطابق چینی فضائیہ کے طیاروں نے حساس علاقوں کے قریب پروازیں کیں، جنہیں معمول کے مقابلے میں زیادہ سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہے۔
دوسری جانب بیجنگ میں ہونے والی سیاسی ملاقات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں چینی قیادت نے تائیوان کے معاملے پر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے ایک چین پالیسی پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی سفارتی سرگرمیاں اور ساتھ ساتھ فوجی نقل و حرکت ایک واضح پیغام ہو سکتی ہیں۔
چین اکثر ایسے مواقع پر فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے تاکہ اپنے سیاسی مؤقف کو مضبوط بنایا جا سکے۔ تائیوان کے لیے یہ صورتحال سیکیورٹی کے لحاظ سے اہم چیلنج بنی ہوئی ہے، جبکہ امریکا اور دیگر اتحادی بھی خطے میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آئندہ دنوں میں اس نوعیت کی سرگرمیاں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے ایشیا پیسیفک خطے میں عدم استحکام کے خدشات برقرار رہیں گے۔