(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین کے حوالے سے اپنی سابقہ سخت حکمتِ عملی کو خاموشی سے ترک کرتے ہوئے ایک نسبتاً نرم اور مفاہمتی رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی عالمی سیاسی و اقتصادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن اب بیجنگ کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور تعاون کے امکانات پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ اس پالیسی میں تبدیلی کو خاص طور پر تجارت، ٹیکنالوجی اور خطے میں سیکیورٹی معاملات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی دونوں معیشتوں پر اثر انداز ہو رہی تھی، جس کے باعث اب دونوں ممالک کے لیے تعلقات میں بہتری کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ اس نئی حکمتِ عملی کے تحت ممکنہ طور پر اقتصادی تعاون اور سفارتی رابطوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ تبدیلی وقتی بھی ہو سکتی ہے اور اس کا انحصار مستقبل کی سیاسی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے درمیان توازن پر ہوگا۔ تاہم موجودہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ لچک دکھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو امریکا اور چین کے تعلقات میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے، جو عالمی معیشت اور جیوپولیٹیکل صورتحال پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔