ایرانتازہ ترین

ایران کا وقت ختم ۔ ایٹم بم چلنے کا خطرہ ؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران سے ممکنہ جنگ، اسرائیل کی کارروائیاں اور عالمی طاقتوں کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور بیانات کے مطابق آئندہ دنوں میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ آئندہ دو ہفتوں کے اندر شروع ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی بڑی تعداد میں میزائل اور تقریباً 60 فیصد بحری کشتیاں اب بھی فعال ہیں، جو خطے میں خطرہ بن سکتی ہیں۔

ایران کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ ایران کا اعتماد حاصل کرتا ہے یا نہیں، جبکہ امریکا کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی تجزیہ کاروں کی رائے بھی سامنے آئی ہے، جن کے مطابق ایران آسانی سے سرنڈر نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس صورتحال کو اپنی بقا کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ بعض آراء میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر کسی معاہدے کی طرف جا سکتے ہیں، کیونکہ طویل جنگ ان کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سابق امریکی فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کو مکمل طور پر شکست دینے یا سرنڈر کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اور اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو بھی واضح کامیابی مشکل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے بغیر کسی فیصلہ کن نتیجے کے۔

اسی دوران اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیوں کے جاری رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

امریکا کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض حلقے جنگ کے خلاف ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ دوبارہ جنگ شروع ہونے سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے اور سیاسی سطح پر بھی بڑے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

یورپی سطح پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے، اور بعض بیانات میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نیٹو اور یورپ کی سکیورٹی کو متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یوکرین تنازع بھی جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سفارتی کوششوں کی ناکامی اور عسکری اقدامات کے امکانات عالمی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button