تازہ ترینفلسطین

غزہ کے لیے عالمی فلوٹیلا روانہ، 70 ممالک کے کارکن شریک

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

غزہ کے محاصرے کو توڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے عالمی سطح پر ایک نئی کوشش کے تحت "فلوٹیلا آف اسٹیڈ فاسٹنس” کے نام سے جہازوں کا بڑا قافلہ اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہو گیا ہے، جس میں دنیا بھر کے درجنوں ممالک کے کارکن شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اتوار کے روز جب یہ فلوٹیلا بارسلونا کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تو بڑی تعداد میں مقامی افراد نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے اس قافلے کو رخصت کیا۔ اس موقع پر "فری فلسطین” کے نعرے بھی لگائے گئے، جس سے فضا جذباتی مناظر سے بھر گئی۔

منتظمین کے مطابق اس مہم کا مقصد نہ صرف غزہ تک انسانی امداد پہنچانا ہے بلکہ عالمی برادری کو وہاں کی صورتحال سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

گرین پیس اسپین کی ڈائریکٹر ایوا سالدانا، جو پہلی بار اس مہم میں شریک ہیں، نے کہا کہ غزہ جانا صرف ایک سرگرمی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق خاموشی اختیار کرنا دراصل ناانصافی کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، اس لیے دنیا بھر کی حکومتوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

اسی طرح "اوپن آرمز” تنظیم کے سربراہ آسکر کیمپس نے یورپی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا رویہ مختلف نظر آتا ہے۔

یہ فلوٹیلا اس سے قبل 2025 میں بھی غزہ پہنچنے کی کوشش کر چکا ہے، تاہم اس وقت اسرائیلی کارروائی کے باعث یہ کوشش ناکام ہو گئی تھی اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس بار منتظمین نے حکمت عملی کو مزید وسیع کرتے ہوئے سمندری کے ساتھ زمینی راستوں کو بھی شامل کیا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار تقریباً 80 سے زائد کشتیوں اور ایک ہزار کے قریب کارکنوں کے ساتھ یہ مشن شروع کیا گیا ہے، اور انہیں ممکنہ رکاوٹوں کا سامنا ہونے کے باوجود اپنے مقصد پر مکمل یقین ہے۔

ادھر غزہ میں جاری انسانی بحران بدستور سنگین ہے، جہاں طویل محاصرے اور حالیہ جنگی کارروائیوں کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بنیادی سہولیات، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فلوٹیلا نہ صرف ایک انسانی امدادی اقدام ہے بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک علامتی کوشش بھی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں عالمی سیاست اور انسانی حقوق کے مباحث پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button