(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عالمی توجہ جہاں مشرق وسطیٰ اور ایران سے متعلق کشیدگی پر مرکوز تھی، وہیں چین نے خاموشی سے بحیرہ جنوبی چین میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک نئی مصنوعی جزیرہ نما فوجی تنصیب قائم کر لی ہے، جس نے خطے میں طاقت کے توازن پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چین نے ویتنام سے تقریباً 400 کلومیٹر دور ایک ریف (چٹانی ساخت) کو وسعت دے کر اسے ایک مکمل فوجی بیس میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس نئے ڈھانچے پر 50 سے زائد تنصیبات قائم کی جا چکی ہیں، جن میں ایک تقریباً 2.7 کلومیٹر طویل رن وے بھی شامل ہے، جو جنگی طیاروں کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف بحیرہ جنوبی چین میں چین کی گرفت مضبوط کرنا ہے بلکہ خطے میں اسٹریٹجک برتری حاصل کرنا بھی ہے۔ یہ علاقہ عالمی تجارت کے اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی عالمی سطح پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اگرچہ چین اس علاقے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت مصنوعی جزائر کی تعمیر سے کسی ملک کو نئے سمندری حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود چین کی مسلسل سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ عملی طور پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
دوسری جانب ویتنام نے اس پیش رفت پر ردعمل تو دیا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق یہ ردعمل کافی تاخیر سے سامنے آیا، جس سے چین کو اپنے منصوبے کو مکمل کرنے کا موقع مل گیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیا فوجی اڈہ چین کے لیے نہایت اہم ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ علاقہ آبدوزوں کے اڈوں کے قریب واقع ہے اور مستقبل میں تائیوان سے متعلق کسی بھی ممکنہ تنازع میں اسے اسٹریٹجک دباؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا کھیل صرف کھلے میدان میں نہیں بلکہ پس پردہ بھی جاری ہے، جہاں بڑے ممالک موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو خاموشی سے بڑھاتے رہتے ہیں۔