سعودی عرب: حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے، جدید سفری سہولت اور وژن 2030 کا اہم ستون

سعودی عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو جوڑنے والی حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کو خطے کے جدید ترین اور تیز رفتار ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ریلوے لائن نہ صرف دونوں مقدس شہروں کو آپس میں ملاتی ہے بلکہ جدہ، کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ عبد اللہ اکنامک سٹی کو بھی ایک مربوط سفری نظام کے تحت جوڑتی ہے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر حجاج اور زائرین کے لیے سفر کو محفوظ، تیز اور آرام دہ بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا، جو سعودی عرب کے وژن 2030 میں انفراسٹرکچر اور سیاحت کے فروغ کا ایک نمایاں حصہ ہے۔

جدید رفتار، کم وقت
حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے تقریباً 450 کلومیٹر طویل ہے اور ٹرینیں 300 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلتی ہیں۔ اس کے ذریعے:
مکہ سے مدینہ کا سفر تقریباً دو گھنٹے بیس منٹ میں طے ہوتا ہے
جدہ سے مکہ کا سفر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے
یہ سہولت مشرقِ وسطیٰ میں تیز رفتار ریل کے جدید ترین نظاموں میں شامل ہے۔
سرمایہ کاری اور تکمیل
ریلوے منصوبے پر مجموعی طور پر تقریباً 60 ارب سعودی ریال کی لاگت آئی۔ اس کا آغاز 2009 میں ہوا جبکہ 2018 میں تجارتی سروس شروع کی گئی اور 2019 میں باقاعدہ افتتاح ہوا۔ منصوبے کی تکمیل میں سعودی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی شراکت داروں نے بھی کردار ادا کیا۔
مسافروں کی بڑھتی تعداد
اعداد و شمار کے مطابق یہ ریلوے سالانہ 60 ملین مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں:
2023 میں تقریباً 70 لاکھ مسافروں نے اس سروس سے فائدہ اٹھایا
رمضان اور حج کے دوران روزانہ ہزاروں مسافر اس سہولت کو استعمال کرتے ہیں
انتظامیہ کے مطابق مصروف ایام میں ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کر کے رش کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جاتا ہے۔
جدید سہولیات

ٹرینوں میں اکانومی اور بزنس کلاس سمیت آرام دہ نشستیں، جدید سیکیورٹی نظام اور بروقت سروس فراہم کی جاتی ہے۔ ٹکٹوں کی قیمتیں موسم اور سروس کے مطابق مختلف ہوتی ہیں، تاہم عام مسافروں کے لیے یہ سفری سہولت نسبتاً قابلِ رسائی رکھی گئی ہے۔
معاشی اور سماجی اثرات
ماہرین کے مطابق حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے:
حج و عمرہ کے سفر کو آسان بناتی ہے
شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرتی ہے
سیاحت، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے
مجموعی جائزہ

حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کو سعودی عرب کی جدید ترقی، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور زائرین کی سہولت کے عزم کی عملی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں مسافروں کی تعداد میں مزید اضافے اور سروس کے دائرہ کار میں توسیع کی توقع کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب نے حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کے بیڑے میں اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہسپانوی کمپنی تالگو (Talgo) کے ساتھ 20 نئے ہائی اسپیڈ ٹرین سیٹس خریدنے کا معاہدہ کیا گیا ہے، جن کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوگی۔
نئی ٹرینوں کی فراہمی کے بعد حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کے بیڑے میں ٹرینوں کی مجموعی تعداد 55 ہو جائے گی۔ ہر ٹرین 13 بوگیوں پر مشتمل ہوگی، جن میں 8 اکانومی کلاس اور 5 بزنس کلاس بوگیاں شامل ہوں گی۔
ان جدید ٹرینوں میں خصوصی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں، جن میں معذور افراد کے لیے مخصوص بوگیاں اور وہیل چیئرز کی سہولت شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد حجاج اور زائرین کو مزید آرام دہ، محفوظ اور تیز رفتار سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔



