تازہ ترینعالمی خبریں

خطے میں تیزی سے بدلتی صورتِ حال: اسرائیل، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندیاں

یروشلم / غزہ / انقرہ / ریاض:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہے، جو خطے کی سیاسی، عسکری اور سفارتی سمت کو متاثر کر رہی ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے سامنے آنے والی نئی دستاویزات کے مطابق بدنام امریکی تاجر جیفری اپسٹین نے اسرائیلی فوج اور مغربی کنارے میں قائم یہودی آبادکار تنظیموں کو مالی عطیات دیے تھے۔ رپورٹس کے مطابق یہ رقوم اسرائیلی دفاعی اداروں اور فلسطینی زمینوں پر قائم بستیوں کی معاونت کے لیے دی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادھر حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت اسلحہ نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو جبری بے دخل کر رہا ہے اور یہ مسئلہ صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ اردن اور مصر سمیت پورے خطے کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 506 فلسطینی شہید اور 1,405 زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں انسانی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور جنگ بندی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں بھی تشویشناک تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ دی یروشلم پوسٹ نے لکھا ہے کہ ترکی نے غزہ میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کر لیا ہے، جو اسرائیل کے لیے ایک سنگین اسٹریٹجک چیلنج بن سکتا ہے۔ اسی طرح دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سعودی عرب مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، جسے خطے کی سفارت کاری میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

علاقائی سطح پر دفاعی معاہدوں کا رجحان بھی تیز ہو گیا ہے۔ سعودی عرب نے صومالیہ کے ساتھ ایک نیا دفاعی معاہدہ کر لیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق ترکی اور مصر کے درمیان اسلحہ جاتی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی اور مصر اسرائیل کے مقابل ایک غیر رسمی فوجی تعاون کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

مغربی کنارے کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ جنوری کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس نے وہاں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں پرانے اتحاد کمزور اور نئے علاقائی بلاکس ابھر رہے ہیں۔ آنے والے مہینے خطے کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان فیصلوں اور تنازعات کے اثرات طویل المدت ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button