ایرانتازہ ترین

اسرائیل کی امریکا کو وارننگ: ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ’’وجودی خطرہ‘‘، یکطرفہ کارروائی کا امکان

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے اعلیٰ دفاعی حکام نے امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اب اسرائیل کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکا ہے اور اگر تہران نے ایک مقررہ حد عبور کی تو اسرائیل امریکی مدد کے بغیر بھی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

The Jerusalem Post کی رپورٹ میں سینیئر سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ایک واضح ریڈ لائن طے کر دی ہے اور یہ پیغام واشنگٹن تک پہنچا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ایران تاحال اس حد کو عبور نہیں کر سکا، تاہم اسرائیل ایران کے اندر میزائلوں کی تیاری، پیداوار اور نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی دفاعی حکام نے امریکی فریق کو ایسے عملی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا ہے جن کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی پیداواری صلاحیت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ان منصوبوں میں میزائل فیکٹریوں، سپورٹنگ تنصیبات اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے موجودہ صورتحال کو ’’تاریخی موقع‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر کارروائی سے نہ صرف ایران کی میزائل طاقت کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ خطے کو درپیش ایک بڑے اسٹریٹجک خطرے کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ امریکی صدر Donald Trump ایران کے خلاف محدود نوعیت کی کارروائی کو ترجیح دے سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں یمن میں حوثیوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ اسرائیلی موقف ہے کہ اس طرح کی محدود کارروائی ایران کی بنیادی میزائل صلاحیت کو برقرار رکھے گی اور طویل المدتی خطرہ ختم نہیں ہو گا، جس سے اسرائیل مسلسل عدم تحفظ کا شکار رہے گا۔

ادھر اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے فضائیہ کے آئندہ کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عمر تِشلر بدھ کے روز وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu کے ہمراہ امریکا کے دورے پر جا رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران نیتن یاہو کی صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات متوقع ہے، جہاں ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل ایران کے معاملے میں اب زیادہ سخت اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button